تہران...ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ماہ رمضان میں عبادات کو محدود کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس کے باعث بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق اب تک ایران میں اس موذی وائرس کی وجہ سے چارہزار افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد چھیاسٹھ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
امریکی خبررساں ادارے کے مطابق خامنہ ای نے قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اس مرض کی وجہ سے رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق اجتماعی عبادات پر پابندی کااشارہ انہوں نے نو اپریل کو دیا ہے۔
انہوں نے کہاکورونا کی وجہ سے لوگ ماہ مقدس میں اجتماعی عبادات سے محروم ہوجائیں گے اس لئے وہ گھروں پر عبادت کااہتمام کریں۔
ایرانی سپریم لیڈر کے بیان سے قبل مصرنے بھی ماہ مبارک میں عبادات کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں اجتماعی عبادت پر پابندی شامل ہے**
خیال رہے ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس کے باعث بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق اب تک ایران میں اس موذی وائرس کی وجہ سے چارہزار افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد چھیاسٹھ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
امریکی خبررساں ادارے کے مطابق خامنہ ای نے قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اس مرض کی وجہ سے رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق اجتماعی عبادات پر پابندی کااشارہ انہوں نے نو اپریل کو دیا ہے۔
انہوں نے کہاکورونا کی وجہ سے لوگ ماہ مقدس میں اجتماعی عبادات سے محروم ہوجائیں گے اس لئے وہ گھروں پر عبادت کااہتمام کریں۔
ایرانی سپریم لیڈر کے بیان سے قبل مصرنے بھی ماہ مبارک میں عبادات کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں اجتماعی عبادت پر پابندی شامل ہے**

Comments
Post a Comment
Comments