یہ لوگ (انسانی بم) ہیں جو (کرونا جہاد) کر رہے، بھارت میں تبلیغی جماعت پر کورونا وائرس پھیلنےکا الزام، انتہا پسندوں نے مسلمانوں کا جینا مشکل کر دیا
مسلمانوں کو ان کے گھروں،مساجد اور راشن تقسیم کرتے ہوئے مارا گیا، لوگوں کو ہدایت کی گئی ان سے کچھ نہ لیں، ان کی اشیاء میں وائرس ہوتا ہے، ہندو انتہاء پسند سیاستدانوں نے مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی تک مارنے کا مطالبہ کر دیا
چین کے شہر وہان سے شروع ہونےو الے کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی تباہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت میں بھی کورونا وائر س نے اپنی تباہی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے بعد وہاں موجود مسلمانوں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس پھیلا یا ہے۔
الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے باعث کورونا وائرس پھیلا۔ ایس بنیاد پر مسلمانوں سے متعلق نفرت کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہ تو "انسانی بم" ہیں جو "کورونا جہاد" کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں بھارت میں موجود مسلمانوں کو چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہےبتایا گیا ہے کہ اس تشدد کو جنگ کا نام دے کر نوجوان مسلمانوں کو باقاعدہ نشانہ بنایا جا رہا ہے
جو مسلمان غریبو ں میں راشن تقسیم کر رہے تھے، انہیں موقع پر ہی ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کو منع کیا جا رہا ہے کہ ا ن سے کچھ نہ لیں کیونکہ انہوں نے بھارت میں کورونا وائرس پھیلا یا ہے۔ مسلمانوں کو بھارت میں ان کے گھروں میں اور مساجد میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کو ان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں بھارتی پنجاب کے ایک گاؤن میں اعلان کیا گیا تھا کہ کو ئی بھی شخص مسلمانوں سے دودھ نہ خریدے کیونکہ انہوں نے اس میں کورونا وائرس پھیلا یا ہوا ہے
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مسلانوں کے خلاف جھوٹی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیںتا کہ لوگوں میں ا ن کے خلاف مزید انتشار پیدا ہوا۔ جبکہ اس تمام صوتحال میں مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے ۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وبا ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، ایسے مشکل وقت میں بھی بھارت کی جانب سے ایل اور سی پر فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ کچھ دنوں سے جاری ہے۔ خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد300 سے زائد ہے۔ ایسی تمام صورتحال میں بھی بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
چین کے شہر وہان سے شروع ہونےو الے کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی تباہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت میں بھی کورونا وائر س نے اپنی تباہی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے بعد وہاں موجود مسلمانوں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس پھیلا یا ہے۔
الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے باعث کورونا وائرس پھیلا۔ ایس بنیاد پر مسلمانوں سے متعلق نفرت کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہ تو "انسانی بم" ہیں جو "کورونا جہاد" کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں بھارت میں موجود مسلمانوں کو چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہےبتایا گیا ہے کہ اس تشدد کو جنگ کا نام دے کر نوجوان مسلمانوں کو باقاعدہ نشانہ بنایا جا رہا ہے
جو مسلمان غریبو ں میں راشن تقسیم کر رہے تھے، انہیں موقع پر ہی ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کو منع کیا جا رہا ہے کہ ا ن سے کچھ نہ لیں کیونکہ انہوں نے بھارت میں کورونا وائرس پھیلا یا ہے۔ مسلمانوں کو بھارت میں ان کے گھروں میں اور مساجد میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگوں کو ان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں بھارتی پنجاب کے ایک گاؤن میں اعلان کیا گیا تھا کہ کو ئی بھی شخص مسلمانوں سے دودھ نہ خریدے کیونکہ انہوں نے اس میں کورونا وائرس پھیلا یا ہوا ہے
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مسلانوں کے خلاف جھوٹی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیںتا کہ لوگوں میں ا ن کے خلاف مزید انتشار پیدا ہوا۔ جبکہ اس تمام صوتحال میں مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے ۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وبا ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، ایسے مشکل وقت میں بھی بھارت کی جانب سے ایل اور سی پر فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ کچھ دنوں سے جاری ہے۔ خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد300 سے زائد ہے۔ ایسی تمام صورتحال میں بھی بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

Comments
Post a Comment
Comments